کنداپور(بسرور):2؍ مارچ(ایس اؤ نیوز)بروز سنیچر29فروری 2020دوپہر تین بجے ینگ اسٹار اسوسی ایشن بسرور کے زیر اہتمام بین المکاتیب ناظرہ قرآن،حفظ سورۃ،حفظ حدیث کا مسابقہ اورعظیم الشان انعامی پروگرام منعقد ہوا۔ طلباء وطالبات کی بچپن ہی سے دینی نہج پر تربیت کرتے ہوئے قرآن سے تعلق پیدا کرنا اوراسی فکر کو پروان چڑھانے کامقصد لے کر خوبصور ت بزم سجائی گئی تھی۔
جلسہ میں مدرسہ ضیاء العلوم کنڈلور کے ناظم مولانا عبید اللہ ندوی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتےہوئے منتظمین کو مکاتیب کے طلبا کےد رمیان مختلف مسابقات انعقاد کرنے پر مبارکبادی پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں قرآن مجید سے اپنے تعلق کو مضبوط کرناہے ۔ جس طرح پہلے گھروں سے قرآن مجید پڑھنے کی آوازیں آتی تھیں آج اس میں کافی کمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مشہور سیاح ابن بطوطہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں بھٹکل اور آس پاس کے علاقہ کا خصوصیت کا ذکر کیااورلکھا ہے کہ یہاں کے گھروں سے قرآن مجید پڑھنے کی آوازیں آتی تھیں، اب اس ماحول میں بہت کمی آئی ہے۔ اس پر توجہ دینے کی اپیل کی۔
مولانا عبد العلیم خطیب ندوی امام وخطیب جامع مسجد بھٹکل واستاد جامع اسلامیہ بھٹکل نے اعزازی مہمان کے طورپرموجودہ حالات کے حوالے سے جامع گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا دل برتن کی مانند صاف وشفاف ہوتا ہے اسی عمرمیں جن چیزوں کا بیج بوتے ہیں وہی مستقبل میں درخت کی شکل اختیار کرتی ہیں اور مستقبل کی رہبری کرتی ہیں، لہذا ہماری اولادکو ایمان پر باقی رکھنے کے لئے ہمیں اپنے بچوں کو اپنی سرپرستی میں ہی پروان چڑھانے کی ضرورت ہے،ابھی سے ان کے دلوں میں ایمان اور اسلام کی عظمت راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہاکہ ہمارے بچوں کو ہم اپنے ہی اسکولوں میں داخل کریں قطع نظر اس کے وہاں کا تعلیمی میعار کم ہو کہ زیادہ ۔ اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہاں ہمارا ایمان محفوظ رہے گا۔
موجودہ ہندستا ن کے حالات پرگفتگو کرتےہوئے مولانانے کہاکہ ہمیں ان حالات سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے مسلمان مایوس نہیں ہوتا، ہمارے پاس قرآن اور اللہ کے رسول کی سیرت ہے۔مزید انہوں نے کہا کہ ایک بچے کو ضرور عالم اور حافظ بنائیے تاکہ وہ آپ کی رہبری کرسکیں۔مولانا نے غیر مسلموں سے بھی بہترین تعلقات استوار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر مسلموں کی ہر خوشی اور غم کے موقع پر شریک ہوں اورمواقع کو تلاش کرکے اسلا م کا پیغام بھی ان تک پہنچائیں ،یہ ہماری ذمہ داری اور فرض ہے۔
جلسے میں نواحی علاقوں کی بڑی تعداد شریک تھی عورتوں کی بھی خاصی تعداد تھی جن کے لئے الگ سے انتظام کیا گیا تھا۔ مقامی علماء اور نوجوانوں نے پروگرام کو کامیاب بنانے میں کافی محنت کی ہے بجا طور پر مبارکباد ی کے مستحق ہیں، اول، دوم، سوم کے علاوہ ہر مساہم کو تشجیعی انعامات سے نوازا گیا۔ تقریبا رات ساڑے گیارہ بجے دعائیہ کلمات کے ساتھ پروگرام اختتام کو پہنچا، تواضع کا بہترین انتظام کیا گیا تھا۔
جلسے میں مولانا عبیداللہ ندوی کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کرتےہوئے ان کی تہنیت اور شال پوشی کی گئی، اسی طرح بسرور کے سابق قاضی قاضی سید عبد القادر، کراٹے میں نیشنل لیول پر نمائندگی کرنے والے شیخ محمد شیھان بن شیخ محمد فاروق، والی بال میں اسٹیٹ لیول پر نمائندگی کرنے والے محمد رابط بن شاہ الحمید اور سماجی خدمت گزار شیخ محمد حنیف تہنیت کی گئی۔
جلسہ کا آغاز مولوی شیبان ندوی بسرورکی تلاوت قرآن سے ہوا۔اروی اسری نے ہدیہ نعت پیش کی۔ سید عبد القادر نے استقبالیہ کلمات ادا کئے۔ قاضی باشاہ صاحب نے جلسے کی صدارت کی۔ محمد ضمیر بن محمد علی نے شکریہ کلمات ادا کئے تو مولوی عبد السبحان ندوی اورمولوی عمران ندوی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ ڈائس پر مولانا مفتی سمیع الرحمن خطیب و امام جامع مسجد کنداپور۔ شاہ الحمید صدر جامع مسجد بسرور، قادر باشا صدر نورانی جامع مسجد بسرور، لالہ انور سکریٹری جامع مسجد بسرور، مولانا ابراہیم جامعی کنڈلورموجود تھے۔